کیا علاج غم کا بھی اس کو ہنر آتا نہیں

Yasmeen Moomal (b. 1985)

کیا علاج غم کا بھی اس کو ہنر آتا نہیں

چارہ گر میری طرف کیوں بھول کر آتا نہیں

راستہ دشوار ہے کانٹوں بھرا بھی ہے مگر

عشق کی راہوں میں پھولوں کا سفر آتا نہیں

پیار کا اظہار کر دو سامنے ہے جان من

ایسا بھی ہوتا ہے یہ پل عمر بھر آتا نہیں

جو برائی کے مقابل آ گئے میدان میں

سوچ کر انجام ان کے دل میں ڈر آتا نہیں

دیکھ کر تصویر دل بہلا رہے ہیں والدین

لوٹ کر پردیس سے نور نظر آتا نہیں

بند کر ڈالا گناہوں نے مری رحمت کا باب

اس لئے میری دعاؤں میں اثر آتا نہیں

کٹ رہی ہے عمر اپنی رات بھر جگتے ہوئے

اس طرف لیکن کوئی لے کر سحر آتا نہیں

وقت مشکل میں ہمیشہ صبر سے ہی کام لو

وقت سے پہلے تو پیڑوں پر ثمر آتا نہیں

چھوڑ کر تم ساتھ میرا دور اتنا ہو گئے

یاسمیںؔ سایہ بھی اب مجھ کو نظر آتا نہیں