اس کے بھی دل میں شاید ڈر رہتا ہے

Yasmeen Moomal (b. 1985)

اس کے بھی دل میں شاید ڈر رہتا ہے

جس ظالم کے ہاتھ میں خنجر رہتا ہے

کر آتی ہوں تب تب جنت کی میں سیر

جب جب میرا سجدہ میں سر رہتا ہے

ہوتا ہے جس گھر میں ورد درودوں کا

رحمت کے سائے میں وہ گھر رہتا ہے

میرا دل ویران کرے گا کیا کوئی

میرے دل میں میرا دلبر رہتا ہے

مل جاتی ہے جس کو دولت ایماں کی

دنیا میں وہ مست قلندر رہتا ہے

چھوٹی ندیوں کی وقعت مت کم سمجھو

ان سے ہی آباد سمندر رہتا ہے

موملؔ اس کو دل میں ڈھال سلیقے سے

ورنہ تو پتھر دل پتھر رہتا ہے