بتاؤں کیسے تمہیں کیسی یار گزری ہے
Yasmeen Moomal (b. 1985)بتاؤں کیسے تمہیں کیسی یار گزری ہے
تمہاری بات مجھے ناگوار گزری ہے
تمہارا پیار تھا جب تک نصیب میں میرے
ہر ایک رات بہت یادگار گزری ہے
مذاق اپنے بزرگوں کا جو اڑاتے تھے
حیات ان کی بہت شرمسار گزری ہے
کبھی سکون کا لمحہ نصیب ہی نہ ہوا
حیات ساری بہت بے قرار گزری ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے دیکھ کر لب و رخسار
انہیں کو چھو کے یہاں سے بہار گزری ہے
تمہارے جسم سے مس ہو کے آئی ہو جیسے
ابھی یہاں سے جو موملؔ بیار گزری ہے