پھر سے ممکن ہو تو رشتوں کو سنوارا جائے

Yasmeen Moomal (b. 1985)

پھر سے ممکن ہو تو رشتوں کو سنوارا جائے

عشق کو دل سے کبھی یوں نہ اتارا جائے

سختیوں سے یہ بغاوت پہ اتر آتے ہیں

نرم لہجے سے ہی بچوں کو سدھارا جائے

عشق کا کھیل اگر کھیل رہے ہو دل سے

جیت جانے کے لیے پھر اسے ہارا جائے

جس سے حاصل کریں عبرت یہ زمانے والے

اس طرح کا بھی کوئی وقت گزارا جائے

حسن و کردار کی خوشبو سے معطر ہو کر

ملک اور قوم کو مل جل کے سنوارا جائے

یاسمیںؔ سب کی ہی سنتا ہے مرا رب کریم

شرط یہ ہے کہ اسے دل سے پکارا جائے