Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آرائش چند پل رہی تھیپوشاک یاد گل رہی تھیYasir Iqbal (b. 1983)
  2. استقبال نور کیا رنگ برنگ سلیقوں سےہم نے برکھا دیوی کو دیکھا سات طریقوں سےYasir Iqbal (b. 1983)
  3. پانی کی دریا پرداز عبارت بھی مجہول گئیسوتوں والی بیل پھوٹنے جھڑنے میں مشغول گئیYasir Iqbal (b. 1983)
  4. پاؤں کسی شور میں نہ شر میں کھلےنعرۂ زنجیر کی زبر میں کھلےYasir Iqbal (b. 1983)
  5. تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط مناناشہزادے کے شگوفے کو اک شاخچۂ مضبوط بتاناYasir Iqbal (b. 1983)
  6. رکا سا تھا کوئی منظر مگر ٹھہرا نہیں تھالرزتی یاد کا آنسو تھا اور بہتا نہیں تھاYasir Iqbal (b. 1983)
  7. شام کی شاخ شکستہ برقرار نغمہ ہےرنگ سینچا یا کسی نے سر بکھیرا چار سوYasir Iqbal (b. 1983)
  8. غضب ہیں پیٹتے جھلاتے پیڑوں میں جو یہ لہراتی گاتی ٹہنیاں ہیںسراسر یہ جناب جھنڈ کی تنکا سرائی ہے ہم اچھی ٹہنیاں ہیںYasir Iqbal (b. 1983)
  9. مستقبل کی آنکھ پہن کے درست اندازہ روئے تھےباسی شہر پہ رونے والے بالکل تازہ روئے تھےYasir Iqbal (b. 1983)
  10. وحشت کی ماری آنکھوں نے دل کے شہر کو پرخوں دیکھاشیشۂ خواب سے یوں پتھرائیں کہ دیر تلک پھر گردوں دیکھاYasir Iqbal (b. 1983)