Poetry
- اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کودھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کوYaqoob Parwaz
- دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئیکس سے جا کر پتہ کرے کوئیYaqoob Parwaz
- راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میںکون جانے کہ اصل کیا ہوں میںYaqoob Parwaz
- سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگکتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگYaqoob Parwaz
- کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچاب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچYaqoob Parwaz
- کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہےآخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہےYaqoob Parwaz
- میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بستجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بسYaqoob Parwaz
- ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگگنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگYaqoob Parwaz
- ہوا کی چال چل جائے گا تو بھیخبر کیا تھی بدل جائے گا تو بھیYaqoob Parwaz
- یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلےنکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلےYaqoob Parwaz