Poetry
- باڑھ کا پانی اتر گیا ہےمچھلیاںVeneet Raja
- بھٹکتی پیاسدور جھلملاتا اک سرابVeneet Raja
- دھوپ سے تپ رہی ہے چھتفرش پر لیٹی ہوئی ہے چھپکلیVeneet Raja
- کھونٹے سے بندھی بکریاپنے دائرے میںVeneet Raja
- نانی ہر راتاک وہی کہانی سناتی تھیVeneet Raja
- ہم نے بسائے گھربنائے دروازےVeneet Raja
- دنراتVeneet Raja
- دھوپ نےکھڑکی کے شیشوں پرVeneet Raja
- میرا شعورمیرا جہنم ہےVeneet Raja
- یہ جھولتا سایہسانپ ہے یا رسیVeneet Raja
- ایک مدت سےآکاش میںVeneet Raja
- ایک ناگابدن پر مل رہا ہے راکھVeneet Raja
- جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھاوہ تمہارا نام کب تھاVeneet Raja
- سرنگوںقطار بندVeneet Raja
- میں اکثر بکواس کرتا پایا جاتا ہوںمجھے سنجیدگی سے نہ لیا جائےVeneet Raja
- ہم جب جنگل سے نکل کربستی میں آئےVeneet Raja