Poetry
- اپنا کردار بچانے میں لہو لگتا ہےزندگی تیرے فسانے میں لہو لگتا ہےVarun Anand (b. 1985)
- اسی لئے تو مسافر تو سوگوار نہیںکہ تو نے قافلے دیکھیں ہیں پر غبار نہیںVarun Anand (b. 1985)
- تمہیں کس نے کہا ہے ہم بری تقدیر والے ہیںوہ جن کو خود سے مطلب ہے سیاسی کام دیکھیں وہVarun Anand (b. 1985)
- تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درختمر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درختVarun Anand (b. 1985)
- تیرے پیچھے ہوگی دنیا پاگل بنکیا بولا میں نے کچھ سمجھا پاگل بنVarun Anand (b. 1985)
- چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرفساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرفVarun Anand (b. 1985)
- خود اپنے خون میں پہلے نہایا جاتا ہےوقار خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہےVarun Anand (b. 1985)
- دنیا میں جو میٹھے دریا ہوتے ہیںوہ سب اس کے جوٹھے دریا ہوتے ہیںVarun Anand (b. 1985)
- دیکھو میرے جیسی حالت ہوتی ہےسچ کہنے کی جن کو عادت ہوتی ہےVarun Anand (b. 1985)
- کاش کہ میں بھی ہوتا پتھرگر تھا ان کو پیارا پتھرVarun Anand (b. 1985)
- کوئی مثال نہیں ہے تری مثال کے بعدمیں بے خیال ہوا ہوں ترے خیال کے بعدVarun Anand (b. 1985)
- کہیں نہ ایسا ہو اپنا وقار کھا جائےخزاں سے پھول بچائیں بہار کھا جائےVarun Anand (b. 1985)
- مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کےنکلے ہیں مرے زخم طلب گار نمک کےVarun Anand (b. 1985)
- یوں اپنی پیاس کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہمسلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہمVarun Anand (b. 1985)
- یہ شوخیاں یہ جوانی کہاں سے لائیں ہمتمہارے حسن کا ثانی کہاں سے لائیں ہمVarun Anand (b. 1985)