Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنا کردار بچانے میں لہو لگتا ہےزندگی تیرے فسانے میں لہو لگتا ہےVarun Anand (b. 1985)
  2. اسی لئے تو مسافر تو سوگوار نہیںکہ تو نے قافلے دیکھیں ہیں پر غبار نہیںVarun Anand (b. 1985)
  3. تمہیں کس نے کہا ہے ہم بری تقدیر والے ہیںوہ جن کو خود سے مطلب ہے سیاسی کام دیکھیں وہVarun Anand (b. 1985)
  4. تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درختمر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درختVarun Anand (b. 1985)
  5. تیرے پیچھے ہوگی دنیا پاگل بنکیا بولا میں نے کچھ سمجھا پاگل بنVarun Anand (b. 1985)
  6. چاند ستارے پھول پرندے شام سویرا ایک طرفساری دنیا اس کا چربہ اس کا چہرا ایک طرفVarun Anand (b. 1985)
  7. خود اپنے خون میں پہلے نہایا جاتا ہےوقار خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہےVarun Anand (b. 1985)
  8. دنیا میں جو میٹھے دریا ہوتے ہیںوہ سب اس کے جوٹھے دریا ہوتے ہیںVarun Anand (b. 1985)
  9. دیکھو میرے جیسی حالت ہوتی ہےسچ کہنے کی جن کو عادت ہوتی ہےVarun Anand (b. 1985)
  10. کاش کہ میں بھی ہوتا پتھرگر تھا ان کو پیارا پتھرVarun Anand (b. 1985)
  11. کوئی مثال نہیں ہے تری مثال کے بعدمیں بے خیال ہوا ہوں ترے خیال کے بعدVarun Anand (b. 1985)
  12. کہیں نہ ایسا ہو اپنا وقار کھا جائےخزاں سے پھول بچائیں بہار کھا جائےVarun Anand (b. 1985)
  13. مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کےنکلے ہیں مرے زخم طلب گار نمک کےVarun Anand (b. 1985)
  14. یوں اپنی پیاس کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہمسلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہمVarun Anand (b. 1985)
  15. یہ شوخیاں یہ جوانی کہاں سے لائیں ہمتمہارے حسن کا ثانی کہاں سے لائیں ہمVarun Anand (b. 1985)