دیکھو میرے جیسی حالت ہوتی ہے

Varun Anand (b. 1985)

دیکھو میرے جیسی حالت ہوتی ہے

سچ کہنے کی جن کو عادت ہوتی ہے

میں صحرا کی ریت ہوں تو ہے دریا کی

سب کی اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے

اتنا ہی اس دہر میں جی پاتا ہے کوئی

جس کے اندر جتنی وحشت ہوتی ہے

جس پل تجھ سے دور ہوا کرتا ہوں میں

اس پل تیری سخت ضرورت ہوتی ہے

تیرے جیسے لوگ وہیں سے آتے ہیں

جنت سے آگے جو جنت ہوتی ہے

دیکھیں کتنی بار دکھی ہوتے ہیں ہم

دیکھیں کتنی بار محبت ہوتی ہے