Poetry
- درد اور رنج کی راہوں کا مسافر نکلااپنی ہی کوکھ سے روتا ہوا شاعر نکلاV. Sudhakar Rao
- لمحہ لمحہ میں گزار آیا ہوںزیست کا قرض اتار آیا ہوںV. Sudhakar Rao
- منظر شہر ہے خوں بار ذرا دیر سے آرو رہے ہیں در و دیوار ذرا دیر سے آV. Sudhakar Rao
- ہجر کی داستاں نئی لکھوںرات کاٹوں مگر صدی لکھوںV. Sudhakar Rao
- ہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھےہزار زینے بس اپنے نقوش پا کے تھےV. Sudhakar Rao
- ہو گئی سیر جہاں کنج جہاں تک آ گئےاپنے گھر سے نکلے اپنے آشیاں تک آ گئےV. Sudhakar Rao
- آسماں پر نکل رہا مہتابدن کے دفتر پہ لگ رہا تالاV. Sudhakar Rao
- پیڑ پہاڑ گگنجس جگہ تھا جوV. Sudhakar Rao
- تیری قربت میں تیرے سائے میںچار دن زندگی کے جینا ہےV. Sudhakar Rao
- دوپہر تکچلا چلا کرV. Sudhakar Rao
- مٹتے ابھرتے چہروں کے دریا میںبنتے بگڑتے رشتوں کے طوفان کے بیچV. Sudhakar Rao