Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آسماں سے صحیفے اترتے رہےروشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  2. آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیںعکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  3. اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہےبے سبب بھی کوئی جینے کا سبب ہوتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  4. اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیںہم نے اپنے اشک آگ سے دھوئے ہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  5. اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئےزندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  6. اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دیناتعلقات کو نزدیک سے صدا دیناUsha Bhadoriya (b. 1954)
  7. ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہےمجھ پہ میری سچائی آشکار کرتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  8. روح میں جب بھی مہکتی ہے صدائے احساسلفظ تا لفظ ٹپکتی ہے صدائے احساسUsha Bhadoriya (b. 1954)
  9. کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میںشاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  10. کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہریمیں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہریUsha Bhadoriya (b. 1954)
  11. وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دےآواز روشنی کی کہیں تو سنائی دےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  12. ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتےزندگی تجھ سے ملاقات نہیں کر پاتےUsha Bhadoriya (b. 1954)