Poetry
- آسماں سے صحیفے اترتے رہےروشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیںعکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہےبے سبب بھی کوئی جینے کا سبب ہوتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیںہم نے اپنے اشک آگ سے دھوئے ہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئےزندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دیناتعلقات کو نزدیک سے صدا دیناUsha Bhadoriya (b. 1954)
- ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہےمجھ پہ میری سچائی آشکار کرتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- روح میں جب بھی مہکتی ہے صدائے احساسلفظ تا لفظ ٹپکتی ہے صدائے احساسUsha Bhadoriya (b. 1954)
- کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میںشاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہریمیں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہریUsha Bhadoriya (b. 1954)
- وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دےآواز روشنی کی کہیں تو سنائی دےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتےزندگی تجھ سے ملاقات نہیں کر پاتےUsha Bhadoriya (b. 1954)