Poetry
- پوچھ لو گر جھوٹ کہتا ہوں دل ناکام سےصبح کی ہے آج بھی رو رو کے میں نے شام سےسید ہمایوں میرزا حقیر
- تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام راتکاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام راتسید ہمایوں میرزا حقیر
- تیری زلف میں دل پھنسا چاہتا ہےیہ آباد گھر اب لٹا چاہتا ہےسید ہمایوں میرزا حقیر
- چھانتے خاک ہیں اس راہ سے آنے والےجی سے جاتے ہیں ترے کوچہ سے جانے والےسید ہمایوں میرزا حقیر
- دشمن کو لے کے ساتھ ستم گر ادھر بڑھاکچ درد سر گھٹا تھا کہ درد جگر بڑھاسید ہمایوں میرزا حقیر
- عاشق کے لیے ہجر کا آزار کہاں تکدکھ سہتا رہے آپ کا بیمار کہاں تکسید ہمایوں میرزا حقیر
- وہ نہ آیا کبھی ادھر افسوسغیر کا ہو گیا مگر افسوسسید ہمایوں میرزا حقیر
- درد دل اپنا سنانا چاہئےہنسنے والوں کو رلانا چاہئےسید ہمایوں میرزا حقیر
- کروں کس سے فریاد کیا ہو گیامرا یار مجھ سے جدا ہو گیاسید ہمایوں میرزا حقیر
- کیا دم نزع کوئی اور تمنا کرتےجب تلک دم نہ نکلتا اسے دیکھا کرتےسید ہمایوں میرزا حقیر
- مہندی پاؤں میں کیا لگانا تھایہ نہ آنے کا اک بہانا تھاسید ہمایوں میرزا حقیر