Poetry
- اک حسیں پیکر تسلیم و رضا ہو جیسےایک تم دشمن ارباب وفا ہو جیسےRafi Badayuni
- جب اپنی ذات کو سمجھا تو کوئی ڈر نہ رہاجہاں میں کوئی پرستار اہل زر نہ رہاRafi Badayuni
- جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسےبات بن جائے مگر بات بنائیں کیسےRafi Badayuni
- جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیںاندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیںRafi Badayuni
- حصار حفظ جاں کوئی نہیں ہےہے کشتی بادباں کوئی نہیں ہےRafi Badayuni
- خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بد ظن ہےہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہےRafi Badayuni
- دلوں میں جذبۂ نفرت ہے کیا کیا جائےزباں پہ دعویٔ الفت ہے کیا کیا جائےRafi Badayuni
- سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میںخیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میںRafi Badayuni
- غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہوناشرط ہے سنگ ملامت پہ بھی خنداں ہوناRafi Badayuni
- کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہےکبھی وہ لطف مجسم دکھائی دیتا ہےRafi Badayuni
- کسی خیال میں کھونے کی جستجو تو کروکسی سے ملنے کی پہلے کچھ آرزو تو کروRafi Badayuni
- نگاہ شوق تجھے کامیاب کس نے کیادل تباہ کو خانہ خراب کس نے کیاRafi Badayuni