Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
  2. اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
  3. اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
  4. اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
  5. ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
  6. ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
  7. جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
  8. خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
  9. در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
  10. کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem