Poetry
- آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہےخواب کی ریت میں سورج کا شجر بوتی ہےRafat Shameem
- اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگابستر خاک پہ پھر ہم کو سلانا ہوگاRafat Shameem
- اب طبیعت کہاں روانی میںکشتی ٹوٹی ہے ٹھہرے پانی میںRafat Shameem
- اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نےراز کیا پردۂ ابہام میں پایا ہم نےRafat Shameem
- ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیںجس کے باہر انا کے پہرے ہیںRafat Shameem
- ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہےنقش تعمیر جہاں بن کے بگڑتے ہی رہےRafat Shameem
- جب خواہش دنیا سے کوئی کام نہیں ہےکیوں پھر دل شوریدہ کو آرام نہیں ہےRafat Shameem
- خود کو جب سے جان گئے ہمدنیا کو پہچان گئے ہمRafat Shameem
- در کسی کا کھلا نہیں لگتاشہر یہ آشنا نہیں لگتاRafat Shameem
- کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتامیں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتاRafat Shameem