Poetry
- آسماں پر ہے دماغ اس کا خود آرائی کے ساتھماہ کو تولے گا شاید اپنی رعنائی کے ساتھRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- آہ و نالہ نے کچھ اثر نہ کیاہجر کی شام کو سحر نہ کیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- تمہاری زلف کے چرچے پریشانیوں میں رہتے ہیںمری دیوانگی کے ذکر دیوانوں میں رہتے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- خوش رنگ ہے گل سے گل رخسار تمہاراریحاں سے سوا خط ہے نمودار تمہاراRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- طالب خدا سے عدل کے خواہاں کرم کے ہیںمظلوم ہم بتوں کے جفا و ستم کے ہیںRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- نام سے تیرے جو روشن مطلع دیواں ہواہر ورق خورشید کے مانند نور افشاں ہواRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- ہر زباں پر ہے گفتگو تیریہے ہر اک دل میں آرزو تیریRadhe Shiyam Rastogi Ahqar