Poetry
- آؤ ہم جشن منائیں کہ یہ دھرتی اپنییہ جہاں دیدہ معمر دھرتیQamar Jahan Naseer
- امیدوں آرزوؤں خوابوں کو مسمار کرتا سوچتا ہوں میںیہ میرے دست و بازو ہیںQamar Jahan Naseer
- چونک کر اٹھ بیٹھتی کیوں ہیںیہ آنکھیں نیند سےQamar Jahan Naseer
- عجب پاگل سی لڑکی تھیعجب سی خواہشیں اس کیQamar Jahan Naseer
- نار و نمرود کا وہ قصہ تو پارینہ ہےکیا کہاQamar Jahan Naseer
- ارادہ آہنی تھا یہ کہ تم کو بھول جائیں گےتمہارا خوبرو پیکرQamar Jahan Naseer
- تن نازک پہ اس کے پیرہن ہے سبز اور دھانیکہیں پر لاجوردی سرمئی اور نقرئی زیورQamar Jahan Naseer
- دنیا کے بکھیڑوں سے الجھتے ہوئے کل اچانکمیری نظر پڑی تو دیکھا کہQamar Jahan Naseer
- زمین کا خوبصورت سڈول جسمزخموں سے چورQamar Jahan Naseer
- عدد ریاضی کاخوف و دہشت کا زائیدہ بن کےQamar Jahan Naseer
- یہ عہد نو کا چلن ہے یا یہ شوق تمہارا ازلی ہےتم کلینڈر تاریخوں کوQamar Jahan Naseer