Poetry
- اپنی محبتوں کا یہ اچھا صلہ ملاجو بھی ملا مجھے وہ مجھی سے خفا ملاQadir Siddiqi (b. 1923)
- بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہےدل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہےQadir Siddiqi (b. 1923)
- بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہےاس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجےQadir Siddiqi (b. 1923)
- پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوںآج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوںQadir Siddiqi (b. 1923)
- تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھےجب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
- حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگآج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگQadir Siddiqi (b. 1923)
- حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کےجلوے بکھر گئے ہیں یہ کس خوش جمال کےQadir Siddiqi (b. 1923)
- دل مضمحل ہے ان کے خیالوں کے باوجوداک سیل تیرگی ہے اجالوں کے باوجودQadir Siddiqi (b. 1923)
- رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہمہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- رہے ہمیشہ مخاطب بس اپنی ذات سے ہمرجوع ہوتے بھی کیا حسن کائنات سے ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- غم گناہ سے فکر نجات سے الجھےتمام عمر ہم افسون ذات سے الجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
- گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئےدل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئےQadir Siddiqi (b. 1923)
- مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیاآپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیاQadir Siddiqi (b. 1923)
- وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہاعمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہاQadir Siddiqi (b. 1923)
- ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوںدل کے مندر میں ترے وہم کو پوجا برسوںQadir Siddiqi (b. 1923)
- کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سےلیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہیQadir Siddiqi (b. 1923)