Poetry
- اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا نشاں رکھا ہےصاف ظاہر ہوں مگر خود کو نہاں رکھا ہےOzair Yusuf (b. 1989)
- اسے لگا تھا کسی اور ہی گلی میں ہواجو حادثہ تھا خبر میں مری گلی میں ہواOzair Yusuf (b. 1989)
- اندر بھی تھا خلا سو خلا دیکھتا رہامیں آسماں کی سمت کھڑا دیکھتا رہاOzair Yusuf (b. 1989)
- تجھ سے ہو پائے اگر صورت ایجاد میں لااپنی وحشت کو کبھی خانۂ آباد میں لاOzair Yusuf (b. 1989)
- کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیںتو یقیناً بات میری ٹھیک سے سمجھا نہیںOzair Yusuf (b. 1989)
- گزشتہ رات مجھے روح تک رسائی ہوئیبراہ راست کسی دل سے آشنائی ہوئیOzair Yusuf (b. 1989)
- گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھاترے خیال نے جانے کہاں بلایا تھاOzair Yusuf (b. 1989)
- مری نظر کا شرر اپنا کام کرنے لگابجھا چراغ مرے دیکھنے سے جلنے لگاOzair Yusuf (b. 1989)
- مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوامکالمہ جو ہوا بھی تو بے زباں سے ہواOzair Yusuf (b. 1989)
- یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیےزخم ہوتے تھے مرے پاس دکھانے کے لیےOzair Yusuf (b. 1989)