Poetry
- آخر یہ روز روز کی وحشت نکل گئیاک دن ہمارے دل سے محبت نکل گئیOm Awasthi (b. 1996)
- اس سے پہلے کہ میرا ذہن سنبھالے مجھ کویہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کوOm Awasthi (b. 1996)
- اس کی یادوں کو کبھی دل سے نکالا نہ گیاسبز ڈالی تھی جہاں پیڑ وہ کاٹا نہ گیاOm Awasthi (b. 1996)
- اک ندی کی دھار کا لے کر سہارا آ گئےساری دنیا گھوم کے تجھ تک دوبارہ آ گئےOm Awasthi (b. 1996)
- پھینکی ہے فتح یاب نے دستار کھینچ کرپہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کرOm Awasthi (b. 1996)
- دھوئیں میں اڑ گئیں سانسیں سگار ختم ہوااسی کے ساتھ ترا انتظار ختم ہواOm Awasthi (b. 1996)
- رہ کر زمیں پہ چاند کے دیدار کے لئےدفتر میں دن گزرتے ہیں اتوار کے لئےOm Awasthi (b. 1996)
- طویل رات کی گہرائیوں میں کچھ بھی نہیںیقیں نہیں تو شناسائیوں میں کچھ بھی نہیںOm Awasthi (b. 1996)
- طویل عشق کی چاہت تھی مختصر نہ ملاہمارے جیسوں کو یہ تحفہ عمر بھر نہ ملاOm Awasthi (b. 1996)
- مطلب پتا نہیں تھا بتانے چلے گئےہم عشق کرکے عشق نبھانے چلے گئےOm Awasthi (b. 1996)
- میں جانتا ہوں کہ اک دن یہاں سے نکلے گیہماری روح بدن کے مکاں سے نکلے گیOm Awasthi (b. 1996)
- ہونا تو نہیں چاہیئے پر یار ہوا تورہبر ہی مری راہ کی دیوار ہوا توOm Awasthi (b. 1996)