Poetry
- بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظمے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میںآتا ہے ماہتاب نظر آفتاب میںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پردۂ چشم سے لہو نکلاقطرہ بادل سے سرخ رو نکلامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- پھری ہے کیوں نگہ دل ربا نہیں معلومہے اس ادا میں بھی کس کی قضا نہیں معلوممنشی ٹھاکر پرساد طالب
- حال انجام سے پیری میں خبردار ہوئےحیف صد حیف کہ اب خواب سے بیدار ہوئےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دل جو پہلے ہی سے محو رخ جاناں ہوتاکس لئے زلف میں پھنستا جو پریشاں ہوتامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دل کو پیری میں محبت کا تری جوش آیابے خودی شب کو رہی وقت سحر ہوش آیامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- دھیان عارض کا ہوا زلف چلیپا دیکھ کریاد کعبہ آ گیا مجھ کو کلیسا دیکھ کرمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- شگفتہ اپنا دل داغدار رہتا ہےیہاں خزاں میں بھی لطف بہار رہتا ہےمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- غم سے فارغ ترے ہرگز دل ناشاد نہ ہوجو گرفتار محبت ہے وہ آزاد نہ ہومنشی ٹھاکر پرساد طالب
- فصل گل آئی ہوا اور ہوئیباغ عالم کی فضا اور ہوئیمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- مہرباں مجھ پہ دم نزع وہ گلفام ہوابارے آغاز سے بہتر مرا انجام ہوامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- میں نہ ہوں گا کبھی تجھ سے بت عیار جداآگ پتھر سے نہیں ہونے کی زنہار جدامنشی ٹھاکر پرساد طالب
- ہاں کبھی ہے کبھی ہے یار نہیںہاں نہیں کا کچھ اعتبار نہیںمنشی ٹھاکر پرساد طالب