Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورتیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورتمنشی شیو پرشاد وہبی
  2. اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیامدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیامنشی شیو پرشاد وہبی
  3. جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیںتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیںمنشی شیو پرشاد وہبی
  4. دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دورفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دومنشی شیو پرشاد وہبی
  5. سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میںہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میںمنشی شیو پرشاد وہبی
  6. شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئےترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئےمنشی شیو پرشاد وہبی
  7. شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئینقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئیمنشی شیو پرشاد وہبی
  8. عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلےکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلےمنشی شیو پرشاد وہبی
  9. عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپمنشی شیو پرشاد وہبی
  10. غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہےخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہےمنشی شیو پرشاد وہبی
  11. نخل امید میں ثمر آیاحسن ان کا مراد پر آیامنشی شیو پرشاد وہبی
  12. ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرحمیرے سینے میں رہو آ کے مرے دل کی طرحمنشی شیو پرشاد وہبی
  13. ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنےبلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنےمنشی شیو پرشاد وہبی
  14. جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتاعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتامنشی شیو پرشاد وہبی