Poetry
- آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورتیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورتمنشی شیو پرشاد وہبی
- اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیامدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیامنشی شیو پرشاد وہبی
- جان جاتی ہے مری ان کو خبر کچھ بھی نہیںتجھ میں او نالۂ جاں سوز اثر کچھ بھی نہیںمنشی شیو پرشاد وہبی
- دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دورفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دومنشی شیو پرشاد وہبی
- سمایا جب سے ہے وہ گلعذار آنکھوں میںہر ایک گل نظر آتا ہے خار آنکھوں میںمنشی شیو پرشاد وہبی
- شب فراق میں رویا کیا سحر کے لئےترس ترس گئیں آہیں مری اثر کے لئےمنشی شیو پرشاد وہبی
- شب وصل انہیں ضد اگر ہو گئینقاب اٹھتے اٹھتے سحر ہو گئیمنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلےکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلےمنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق صادق نے دکھایا یہ اثر آپ سے آپہو گئی ان کو مرے دل کی خبر آپ سے آپمنشی شیو پرشاد وہبی
- غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہےخزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہےمنشی شیو پرشاد وہبی
- نخل امید میں ثمر آیاحسن ان کا مراد پر آیامنشی شیو پرشاد وہبی
- ہو نہ رسوائے زمانہ مہ کامل کی طرحمیرے سینے میں رہو آ کے مرے دل کی طرحمنشی شیو پرشاد وہبی
- ہوں دفن مر کے کوچۂ جاناں کے سامنےبلبل کا آشیاں ہو گلستاں کے سامنےمنشی شیو پرشاد وہبی
- جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتاعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتامنشی شیو پرشاد وہبی