Poetry
- آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیںہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیںمختار صدیقی
- بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
- پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
- ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملیکہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملیمختار صدیقی
- تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھیدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھیمختار صدیقی
- رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاںجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاںمختار صدیقی
- شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
- کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
- موت کو زیست ترستی ہے یہاںموت ہی کون سی سستی ہے یہاںمختار صدیقی
- نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئیکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئیمختار صدیقی
- وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہےہے کراہ جو شب و روز کی جو فضا کے شور و شغب میں ہےمختار صدیقی
- رسوائیمختار صدیقی
- رات کی باتمختار صدیقی
- دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
- پرچھائیاںمختار صدیقی
- قریۂ ویراںمختار صدیقی
- کھنڈرمختار صدیقی