Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیںہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیںمختار صدیقی
  2. بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کیوسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کیمختار صدیقی
  3. پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہوگازخم دیرینہ سے پھر خون ٹپکتا ہوگامختار صدیقی
  4. ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملیکہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملیمختار صدیقی
  5. تھی تو سہی پر آج سے پہلے ایسی حقیر فقیر نہ تھیدل کی شرافت ذہن کی جودت اتنی بڑی تقصیر نہ تھیمختار صدیقی
  6. رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاںجو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قید مقام کہاںمختار صدیقی
  7. شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کےدل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کےمختار صدیقی
  8. کی شب حشر مری شام جوانی تم نےچھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نےمختار صدیقی
  9. موت کو زیست ترستی ہے یہاںموت ہی کون سی سستی ہے یہاںمختار صدیقی
  10. نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئیکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئیمختار صدیقی
  11. وہی اک پکار وہی فغاں مری مہر دیدہ و لب میں ہےہے کراہ جو شب و روز کی جو فضا کے شور و شغب میں ہےمختار صدیقی
  12. رسوائیمختار صدیقی
  13. رات کی باتمختار صدیقی
  14. دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیںکچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیںمختار صدیقی
  15. پرچھائیاںمختار صدیقی
  16. قریۂ ویراںمختار صدیقی
  17. کھنڈرمختار صدیقی