Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گےبے خوف و خطر خدمت فن کرتے رہیں گےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  2. ابر آیا ہے خمار آیا ہےچہرۂ گل پہ نکھار آیا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  3. جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  4. حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  5. خوش ہیں انعام ملا ہو جیسےدرد بھی کوئی دوا ہو جیسےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  6. فضا میں بوئے گل مشک بار ہے کہ نہیںہوا کے دوش پہ پیغام یار ہے کہ نہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  7. وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  8. یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہےجو گرد کارواں ہے کارواں معلوم ہوتی ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  9. مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہےلفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)