Poetry
- آرائش گیسوئے سخن کرتے رہیں گےبے خوف و خطر خدمت فن کرتے رہیں گےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- ابر آیا ہے خمار آیا ہےچہرۂ گل پہ نکھار آیا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- جو اہرمن سے پڑا واسطہ مفر نہ ہواکسی بھی بات پہ راضی وہ فتنہ گر نہ ہواLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- خوش ہیں انعام ملا ہو جیسےدرد بھی کوئی دوا ہو جیسےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- فضا میں بوئے گل مشک بار ہے کہ نہیںہوا کے دوش پہ پیغام یار ہے کہ نہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- وہی جو تھے سنگ میل کل تک وہ جوہڑوں میں پڑے ہوئے ہیںجو بے نشاں تھے قدم قدم پر نشان ان کے گڑے ہوئے ہیںLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- یہ مشت خاک مجھ کو اک جہاں معلوم ہوتی ہےجو گرد کارواں ہے کارواں معلوم ہوتی ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- مزدور کا قصہ کیا اتنا ہی فسانہ ہےلفظوں میں فقط اس کا ہمدرد زمانہ ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)