Poetry
- اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہادل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہاLaxmi Narayan Farigh
- بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہےرگ گل میں نہاں برق تپاں معلوم ہوتی ہےLaxmi Narayan Farigh
- جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہےہر اک پردے سے وہ جلوہ نما ہےLaxmi Narayan Farigh
- جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نےکہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نےLaxmi Narayan Farigh
- خطا انجام ہو کر رہ گیا ہےبشر ناکام ہو کر رہ گیا ہےLaxmi Narayan Farigh
- خواب میں بھی نہ کبھی ان سے ملاقات ہوئیہمیں حاصل نہ کبھی وجہ مباہات ہوئیLaxmi Narayan Farigh
- درد جب دل میں سما جاتا ہےلذت زیست بڑھا جاتا ہےLaxmi Narayan Farigh
- رہ حیات میں وہ بھی مقام آئے گایگانہ کام نہ بیگانہ کام آئے گاLaxmi Narayan Farigh
- مری جدائی میں آنسو بہائے جاتے ہیںیہ فتنہ میری لحد پر جگائے جاتے ہیںLaxmi Narayan Farigh
- نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہےشکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہےLaxmi Narayan Farigh