خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

Laxmi Narayan Farigh

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے

ترا ملنا بقید زندگانی

خیال خام ہو کر رہ گیا ہے

فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم

مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے

ہر اک عنواں بیاض آرزو کا

ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے

دل ناکام کا ہر داغ حسرت

سواد شام ہو کر رہ گیا ہے

وفا کا نام فارغؔ اس جہاں میں

برائے نام ہو کر رہ گیا ہے