درد جب دل میں سما جاتا ہے
Laxmi Narayan Farighدرد جب دل میں سما جاتا ہے
لذت زیست بڑھا جاتا ہے
خون معصوم سے دیواروں پر
غم کا افسانہ لکھا جاتا ہے
اب تو ہر جذبۂ بیباک کا بھی
حوصلہ پست ہوا جاتا ہے
جانے کیوں مجھ کو حیا آتی ہے
وار جب ان کا خطا جاتا ہے
غم ایام کا ہر اک منظر
شدت درد بڑھا جاتا ہے
رفتہ رفتہ دل دیوانہ بھی
محرم راز ہوا جاتا ہے
بے گناہوں کا بھی اب تو فارغؔ
جینا دشوار ہوا جاتا ہے