Poetry
- ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکےمیرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گاتو اک دن مرا جی ہی جاتا رہے گاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیںپاتا نہیں ہوں تب سے میں اپنی خبر کہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیںگر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھابرابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- تہمت چند اپنے ذمے دھر چلےجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلےیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگاکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنمKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- دل مرا پھر دکھا دیا کن نےسو گیا تھا جگا دیا کن نےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ربط ہے ناز بتاں کو تو مری جان کے ساتھجی ہے وابستہ مرا ان کی ہر اک آن کے ساتھKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کوشہادت غیب کی خاطر تو حاضر ہے گواہی کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہےپر یہ لذت تو وہ ہے جی ہی جسے پاتا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھاپر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہےیہ محبت نہیں ہے آفت ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھاہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہےزباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کوعیاں جب ہر جگہ دیکھوں اسی کے ناز پنہاں کوKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریںدل ہی نہیں رہا ہے کہ کچھ آرزو کریںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاجکہنے لگا کہ لا علاج بندہ ہوں میں خدا نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- کنج کاوی جو کی سینے میں غم ہجراں نےاس دفینے ستی اقسام جواہر نکلاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- ہم یہ کہتے تھے کہ احمق ہو جو دل کو دیوےدیکھیں تو چھین لے دل ہم سے وہ کون ایسا ہےKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیاKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- نامۂ درد کو مرے لے کرپاس جب یار کے گیا قاصدKhwaja Mir Dard (1721–1785)