Poetry
- اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دنایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دنKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیاکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سےساقی نے مے کھینچ کے رکھ دی گویا دانے دانے سےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیاشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاںاس قدر ہیں عشق کی رسوائیاںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھادر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہواور پھر لذت جاں ذوق اثر ہو کہ نہ ہوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیابادۂ تہ نشین جام تا لب جام آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہےمگر سارا زمانہ بزم کا افسانہ کہتا ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیںگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- عمر کار جہاں سے گزری ہےگردش آسماں سے گزری ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نےدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دوسر تسلیم خم ہے تم جہاں چاہو وہاں رکھ دوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- گو یوم بدر معرکۂ کار زار تھااس شکل میں وہ آیت پروردگار تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہےمحبت خود سراسر آگہی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہےکہ مجھ کو دور سے کچھ روشنی معلوم ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نےادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)