Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دنایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دنKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  2. اے اہل محبت کیا کہئے کیا چیز محبت ہوتی ہےکچھ غم کی حقیقت ہوتی ہے کچھ دل کی طبیعت ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  3. بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیاکیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  4. تاروں والی رات کا عالم پینے اور پلانے سےساقی نے مے کھینچ کے رکھ دی گویا دانے دانے سےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  5. تقدیر شمع جلوۂ جانانہ بن گیاشعلہ اٹھا جو اس سے تو پردا نہ بن گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  6. جس قدر ہیں حسن کی زیبائیاںاس قدر ہیں عشق کی رسوائیاںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  7. جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھادر پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  8. چاک سینے کا بہ انداز جگر ہو کہ نہ ہواور پھر لذت جاں ذوق اثر ہو کہ نہ ہوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  9. حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیابادۂ تہ نشین جام تا لب جام آ گیاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  10. زبان شمع کھلتی ہے نہ کچھ پروانہ کہتا ہےمگر سارا زمانہ بزم کا افسانہ کہتا ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  11. سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیںگل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیںKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  12. عمر کار جہاں سے گزری ہےگردش آسماں سے گزری ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  13. کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نےدی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  14. کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دوسر تسلیم خم ہے تم جہاں چاہو وہاں رکھ دوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  15. گو یوم بدر معرکۂ کار زار تھااس شکل میں وہ آیت پروردگار تھاKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  16. یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہےمحبت خود سراسر آگہی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  17. یہ دھوکا ہو نہ ہو امید ہی معلوم ہوتی ہےکہ مجھ کو دور سے کچھ روشنی معلوم ہوتی ہےKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  18. ادھر تو طول دیا ہے امید کو اس نےادھر حیات عطا کی ہے مختصر مجھ کوKaifi Chirayyakoti (1890–1956)