Poetry
- اب میں ہوں آپ ایک تماشا بنا ہواگزرا یہ کون میری طرف دیکھتا ہواJagan Nath Azad (1918–2004)
- اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
- اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
- اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
- پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- تمام عمر مرے دل کو یہ غرور رہاکہ ایک لمحے کو یہ بھی ترے حضور رہاJagan Nath Azad (1918–2004)
- تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئےیا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئےJagan Nath Azad (1918–2004)
- جب اپنے نغمے نہ اپنی زباں تک آئےترے حضور ہم آ کر بہت ہی پچھتائےJagan Nath Azad (1918–2004)
- جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہےکہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
- کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- مری چشم تماشا اب جہاں ہےتجلی کارواں در کارواں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- مری عمر رواں ہے اور میں ہوںیہ جنس رائیگاں ہے اور میں ہوںJagan Nath Azad (1918–2004)
- ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
- نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساںکیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماںJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلJagan Nath Azad (1918–2004)
- السلام اے عظمت ہندوستاں کی یادگاراے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیارJagan Nath Azad (1918–2004)
- باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پراک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پرJagan Nath Azad (1918–2004)
- جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آساناپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدانJagan Nath Azad (1918–2004)
- خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھےجس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- دامن لالہ زار میںعالم پر بہار دیکھJagan Nath Azad (1918–2004)
- رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کوٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہJagan Nath Azad (1918–2004)
- سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانیتین برس کی اک بچی ہے نام ہے جس کا پونمJagan Nath Azad (1918–2004)
- فاصلے کی تو خیر بات ہے اورحیدرآباد دل سے دور نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- کتنی روشن کیوں نہ ہو آزادؔ آخر ایک دنشمع ہستی موت کے جھونکوں سے گل ہو جائے گیJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش دردبھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سےJagan Nath Azad (1918–2004)
- وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیںچلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرونظارے دکھلانے والاJagan Nath Azad (1918–2004)
- ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
- اصل میں ہم تھے تمہارے ساتھ محو گفتگوجب خود اپنے آپ سے ہم گفتگو کرتے رہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئیاے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاںJagan Nath Azad (1918–2004)
- بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
- بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیںیہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپناJagan Nath Azad (1918–2004)
- تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والوسحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
- چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابلآزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجودمیں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستوJagan Nath Azad (1918–2004)
- سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والےیہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- نیند کیا ہے ذرا سی دیر کی موتموت کیا کیا ہے تمام عمر کی نیندJagan Nath Azad (1918–2004)
- ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)