Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب میں ہوں آپ ایک تماشا بنا ہواگزرا یہ کون میری طرف دیکھتا ہواJagan Nath Azad (1918–2004)
  2. اتنا بھی شور تو نہ غم سینہ چاک کرعشق اک لطیف شعلہ ہے اس کو نہ خاک کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  3. اک نظر ہی دیکھا تھا شوق نے شباب ان کادن کو یاد ہے ان کی رات کو ہے خواب ان کاJagan Nath Azad (1918–2004)
  4. اوج کمال شعر ہے حمد و ثنا گریمجھ کو سکھا گئی ہے یہی کچھ سخنوریJagan Nath Azad (1918–2004)
  5. اے دل ناداں متاع کم نگاہی پر نہ جااور بھی کچھ دیکھ جسموں کی ادا ہی پر نہ جاJagan Nath Azad (1918–2004)
  6. پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہمنکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  7. تمام عمر مرے دل کو یہ غرور رہاکہ ایک لمحے کو یہ بھی ترے حضور رہاJagan Nath Azad (1918–2004)
  8. تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئےیا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئےJagan Nath Azad (1918–2004)
  9. جب اپنے نغمے نہ اپنی زباں تک آئےترے حضور ہم آ کر بہت ہی پچھتائےJagan Nath Azad (1918–2004)
  10. جلوہ ترا اس طرح سے ناکام نہ ہوتاہم طور پہ ہوتے تو یہ انجام نہ ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  11. خیال یار جب آتا ہے بیتابانہ آتا ہےکہ جیسے شمع کی جانب کوئی پروانہ آتا ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  12. دل کا جہان تیرا چہک کر سنور گیاجلوہ ترا نظر سے جو دل تک اتر گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  13. کب اس میں شک مجھے ہے جو لذت ہے قال میںلیکن وہ بات اس میں کہاں ہے جو حال میںJagan Nath Azad (1918–2004)
  14. کوئی اظہار غم دل کا بہانہ بھی نہیںہو بہانہ بھی جو کوئی تو زمانہ بھی نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  15. مری چشم تماشا اب جہاں ہےتجلی کارواں در کارواں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  16. مری عمر رواں ہے اور میں ہوںیہ جنس رائیگاں ہے اور میں ہوںJagan Nath Azad (1918–2004)
  17. ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوںاب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوںJagan Nath Azad (1918–2004)
  18. میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کرلایا ہوں ایک موج تغزل نکال کرJagan Nath Azad (1918–2004)
  19. نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیںخراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  20. یوں اک سبق مہر و وفا چھوڑ گئے ہمہر راہ میں نقش کف پا چھوڑ گئے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  21. آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
  22. اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساںکیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماںJagan Nath Azad (1918–2004)
  23. اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلJagan Nath Azad (1918–2004)
  24. السلام اے عظمت‌ ہندوستاں کی یادگاراے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیارJagan Nath Azad (1918–2004)
  25. باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پراک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پرJagan Nath Azad (1918–2004)
  26. جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آساناپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدانJagan Nath Azad (1918–2004)
  27. خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھےجس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  28. دامن لالہ زار میںعالم پر بہار دیکھJagan Nath Azad (1918–2004)
  29. رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کوٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہJagan Nath Azad (1918–2004)
  30. سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانیتین برس کی اک بچی ہے نام ہے جس کا پونمJagan Nath Azad (1918–2004)
  31. فاصلے کی تو خیر بات ہے اورحیدرآباد دل سے دور نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  32. کتنی روشن کیوں نہ ہو آزادؔ آخر ایک دنشمع ہستی موت کے جھونکوں سے گل ہو جائے گیJagan Nath Azad (1918–2004)
  33. میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش دردبھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سےJagan Nath Azad (1918–2004)
  34. وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  35. ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیںچلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  36. آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرونظارے دکھلانے والاJagan Nath Azad (1918–2004)
  37. ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
  38. اصل میں ہم تھے تمہارے ساتھ محو گفتگوجب خود اپنے آپ سے ہم گفتگو کرتے رہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  39. اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئیاے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاںJagan Nath Azad (1918–2004)
  40. بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
  41. بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیںیہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپناJagan Nath Azad (1918–2004)
  42. تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  43. تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والوسحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
  44. چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابلآزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  45. ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجودمیں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستوJagan Nath Azad (1918–2004)
  46. سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والےیہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  47. کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  48. میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  49. نیند کیا ہے ذرا سی دیر کی موتموت کیا کیا ہے تمام عمر کی نیندJagan Nath Azad (1918–2004)
  50. ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)