Poetry
- آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھینمیرا سامان اضطراب نہ چھینIftikhar Haidar (b. 1975)
- اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتےہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتےIftikhar Haidar (b. 1975)
- اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانیفریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانیIftikhar Haidar (b. 1975)
- ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہےاس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہےتونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کےآج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کےIftikhar Haidar (b. 1975)
- جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیاپھر اس کے ساتھ سارا زمانہ بدل گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہےرات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہےکسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- فیض عہد جدید تنہائیسہہ رہا ہوں شدید تنہائیIftikhar Haidar (b. 1975)
- قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میںتمہارے ہجر کا اک سوگوار یعنی میںIftikhar Haidar (b. 1975)
- کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہےعشق میرے لیے نیا نہیں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھیتمہاری یاد کی جلوہ گری تھیIftikhar Haidar (b. 1975)
- وحشت فراق خوف ترا دھیان الامانکتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامانIftikhar Haidar (b. 1975)
- وحشت ہے بے زاری ہےشام بھی کتنی بھاری ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہےلیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- اپنے لہجے پہ غور کر کے بتالفظ کتنے ہیں تیر کتنے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
- امیدیں باندھ رکھی ہیں ترے لطف و کرم سےسیہ اعمال ہوں تو گوشوارہ کون دیکھےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ایسوں ویسوں کے قصیدے نہیں لکھے جاتےشعر لکھ لیتا ہوں سہرے نہیں لکھے جاتےIftikhar Haidar (b. 1975)
- بجلی گئی تو وہ بھی ہمارے مکان کیبجلی گری تو وہ بھی ہمارے مکان پرIftikhar Haidar (b. 1975)
- بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوستبے خطا ہی نہ دھر لیا جائےIftikhar Haidar (b. 1975)
- تب مری آس ٹوٹ جاتی ہےجب مری آس لوگ ہوتے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
- تیرے قدموں میں آ کے گرنا ہےجس بلندی پہ بھی اچھال مجھےIftikhar Haidar (b. 1975)
- جتنی فرصت ہے زندگی میں نصیباتنی فرصت میں میں سے تو ہو جاIftikhar Haidar (b. 1975)
- سانس تازہ ہوا کے چکر میںسارا گرد و غبار کھینچتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- سو طرح کے وبال ہیں لیکنپھر بھی زندہ ہیں آن بان کے ساتھIftikhar Haidar (b. 1975)
- سیٹی کی آواز سنی اور سارا ماضی لوٹ آیاپس منظر میں ریل نہیں ہے پورا ایک افسانہ ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھدل میں خیمہ لگا کے بیٹھ گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- شہر میں تھی ناساز طبیعت بیٹے کیگاؤں میں بیٹھی ماں نے کھانا چھوڑ دیاIftikhar Haidar (b. 1975)
- عجیب درد سا اس لمحۂ وصال میں تھاکہ زخم سے بھی بڑا کرب اندمال میں تھاIftikhar Haidar (b. 1975)
- میر کے کچھ اشعار ملا کر راشد کی کچھ نظموں میںوحشت کی آمیزش کر کے اک اسلوب بنانا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
- ہم زمانہ شناس تھے پھر بھیداستاں گو پہ اعتبار کیاIftikhar Haidar (b. 1975)