Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھینمیرا سامان اضطراب نہ چھینIftikhar Haidar (b. 1975)
  2. اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتےہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتےIftikhar Haidar (b. 1975)
  3. اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانیفریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانیIftikhar Haidar (b. 1975)
  4. ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہےاس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  5. بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہےتونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  6. تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کےآج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کےIftikhar Haidar (b. 1975)
  7. جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیاپھر اس کے ساتھ سارا زمانہ بدل گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
  8. زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہےرات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  9. فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہےکسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  10. فیض عہد جدید تنہائیسہہ رہا ہوں شدید تنہائیIftikhar Haidar (b. 1975)
  11. قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میںتمہارے ہجر کا اک سوگوار یعنی میںIftikhar Haidar (b. 1975)
  12. کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہےعشق میرے لیے نیا نہیں ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  13. گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھیتمہاری یاد کی جلوہ گری تھیIftikhar Haidar (b. 1975)
  14. وحشت فراق خوف ترا دھیان الامانکتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامانIftikhar Haidar (b. 1975)
  15. وحشت ہے بے زاری ہےشام بھی کتنی بھاری ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  16. ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہےلیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  17. اپنے لہجے پہ غور کر کے بتالفظ کتنے ہیں تیر کتنے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
  18. امیدیں باندھ رکھی ہیں ترے لطف و کرم سےسیہ اعمال ہوں تو گوشوارہ کون دیکھےIftikhar Haidar (b. 1975)
  19. ایسوں ویسوں کے قصیدے نہیں لکھے جاتےشعر لکھ لیتا ہوں سہرے نہیں لکھے جاتےIftikhar Haidar (b. 1975)
  20. بجلی گئی تو وہ بھی ہمارے مکان کیبجلی گری تو وہ بھی ہمارے مکان پرIftikhar Haidar (b. 1975)
  21. بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوستبے خطا ہی نہ دھر لیا جائےIftikhar Haidar (b. 1975)
  22. تب مری آس ٹوٹ جاتی ہےجب مری آس لوگ ہوتے ہیںIftikhar Haidar (b. 1975)
  23. تیرے قدموں میں آ کے گرنا ہےجس بلندی پہ بھی اچھال مجھےIftikhar Haidar (b. 1975)
  24. جتنی فرصت ہے زندگی میں نصیباتنی فرصت میں میں سے تو ہو جاIftikhar Haidar (b. 1975)
  25. سانس تازہ ہوا کے چکر میںسارا گرد و غبار کھینچتی ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  26. سو طرح کے وبال ہیں لیکنپھر بھی زندہ ہیں آن بان کے ساتھIftikhar Haidar (b. 1975)
  27. سیٹی کی آواز سنی اور سارا ماضی لوٹ آیاپس منظر میں ریل نہیں ہے پورا ایک افسانہ ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  28. شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھدل میں خیمہ لگا کے بیٹھ گیاIftikhar Haidar (b. 1975)
  29. شہر میں تھی ناساز طبیعت بیٹے کیگاؤں میں بیٹھی ماں نے کھانا چھوڑ دیاIftikhar Haidar (b. 1975)
  30. عجیب درد سا اس لمحۂ وصال میں تھاکہ زخم سے بھی بڑا کرب اندمال میں تھاIftikhar Haidar (b. 1975)
  31. میر کے کچھ اشعار ملا کر راشد کی کچھ نظموں میںوحشت کی آمیزش کر کے اک اسلوب بنانا ہےIftikhar Haidar (b. 1975)
  32. ہم زمانہ شناس تھے پھر بھیداستاں گو پہ اعتبار کیاIftikhar Haidar (b. 1975)