Poetry
- اک پل بھی کہیں راحت و آرام نہیں ہےیہ عشق کا آغاز ہے انجام نہیں ہےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- بدلا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوںتہذیب کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئیشاید حیات عشق کے سانچے میں ڈھل گئیGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- دیکھ کر رنگ ان کی محفل کاہو گیا پست حوصلہ دل کاGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- روز دل کو مرے اک زخم نیا دیتے ہیںآپ کیا اپنا بنانے کی سزا دیتے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- زمانے بھر کو نئی تاب و تب دکھا نہ سکےوہ شخص کیا جو غموں میں بھی مسکرا نہ سکےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہر موسم تپاں میں گل تر لٹائیےجب لوگ تشنہ لب ہوں سمندر لٹائیےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیںاے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہم جو سارے جہان والے ہیںگم شدہ داستان والے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)