Poetry
- ایک مدت سے سر بام وہ آیا بھی نہیںہم کو اب حسرت دیدار تمنا بھی نہیںFaiz ul Hasan Khayal
- اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جاناغم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جاناFaiz ul Hasan Khayal
- جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیاخود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیاFaiz ul Hasan Khayal
- جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہیگویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہیFaiz ul Hasan Khayal
- دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہاوہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہاFaiz ul Hasan Khayal
- صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلومزخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلومFaiz ul Hasan Khayal
- کانچ کے شہر میں پتھر نہ اٹھاؤ یارومے کدہ ہے اسے مقتل نہ بناؤ یاروFaiz ul Hasan Khayal
- لوگ کہتے ہیں کہ قاتل کو مسیحا کہئےکیسے ممکن ہے اندھیروں کو اجالا کہئےFaiz ul Hasan Khayal
- وہ جتنے دور ہیں اتنے ہی میرے پاس بھی ہیںیہ اور بات ہے خوش ہیں مگر اداس بھی ہیںFaiz ul Hasan Khayal
- ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرحتم نے گلشن کو بنایا ہے بیاباں کی طرحFaiz ul Hasan Khayal