اے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا
Faiz ul Hasan Khayalاے دل اچھا نہیں مصروف فغاں ہو جانا
غم کی توہین ہے اشکوں کا رواں ہو جانا
دل کی آواز بھی مجروح جہاں ہوتی ہے
ایسے حالات میں خاموش وہاں ہو جانا
میرے آنسو جو گریں ٹانک لو تم جوڑے میں
دیکھ لے کوئی تو پھولوں کا گماں ہو جانا
اہل ساحل کو بھی اندازۂ طوفاں ہو جائے
قطرۂ اشک ذرا سیل رواں ہو جانا
رخصت موسم گل کے بھی اٹھاؤ صدمے
اتنا آساں نہیں احساس خزاں ہو جانا
قید موسم نہیں نغمات عنا دل کے لیے
کوئی موسم ہو گل تر کی زباں ہو جانا
میرے جینے کا سہارا تھیں جو نظریں کل تک
کیا ستم ہے انہیں نظروں کا گراں ہو جانا
شوق افزا ہے یہ انداز حجاب خوباں
دل میں رہتے ہوئے آنکھوں سے نہاں ہو جانا
وہ گلستاں میں جو آ جائیں تو ممکن ہے خیالؔ
مسکراتی ہوئی کلیوں کا جواں ہو جانا