صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم

Faiz ul Hasan Khayal

صبح نو لاتی ہے ہر شام تمہیں کیا معلوم

زخم خوشیوں کے ہیں پیغام تمہیں کیا معلوم

بھول کر بھی جو کسی بزم میں آیا نہ گیا

سینکڑوں اس پہ ہیں الزام تمہیں کیا معلوم

لوگ گلشن میں تو چلتے ہیں سرافرازی سے

ان میں کتنے ہیں تہہ دام تمہیں کیا معلوم

کچھ اندھیرے بھی خطا وار تباہی ہیں مگر

روشنی پر بھی ہے الزام تمہیں کیا معلوم

جس کو تم ڈھونڈتے ہو شمع رخ ناز لئے

وہ تو عرصے سے ہے گمنام تمہیں کیا معلوم

جو رخ زیست پہ تھا حرف غلط کی مانند

مل رہا ہے اسے انعام تمہیں کیا معلوم

جو کفن باندھ کے چلتے ہیں وفا کی رہ میں

زندگی کر چکے نیلام تمہیں کیا معلوم

سرخ رو کون ہوا کوچۂ جاناں میں کبھی

نامور بھی ہوئے بدنام تمہیں کیا معلوم

دو قدم بھی نہ چلے راہ وفا میں ہم لوگ

ہے ابھی ذوق طلب خام تمہیں کیا معلوم

جو جلا رات کی تنہائی میں اس پر بھی خیالؔ

بے وفائی کا ہے الزام تمہیں کیا معلوم