ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرح

Faiz ul Hasan Khayal

ہم نے صحرا کو سجایا تھا گلستاں کی طرح

تم نے گلشن کو بنایا ہے بیاباں کی طرح

رات کا زہر پئے خواب کا آنچل اوڑھے

کون ہے ساتھ مرے گردش دوراں کی طرح

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اب تک بھی ہیں صحرا صحرا

اسی لمحے کو جو تھا فصل بہاراں کی طرح

مصلحت کوش زمانے کا بھروسہ کیا ہے

جو بھی ملتا ہے یہاں گردش دوراں کی طرح

آج وہ لمحے مجھے ڈستے ہیں تنہا پا کر

کبھی محبوب تھے جو مجھ کو دل و جاں کی طرح

جانے کیا بات ہے کیوں جشن مسرت میں ندیم

یاد آتی ہے تری شام غریباں کی طرح

کب تلک شہر کی گلیوں میں پھرو گے یارو

آسمانوں پہ اڑو تخت سلیماں کی طرح

یہ تو پروانوں کے دل ہیں جو پگھل جاتے ہیں

کون جلتا ہے یہاں شمع شبستاں کی طرح

کون خوابوں کے جزیرے سے چلا آیا خیالؔ

دل میں اک روشنی ہے صبح درخشاں کی طرح