جانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا
Faiz ul Hasan Khayalجانے کیا سوچ کے اس نے ستم ایجاد کیا
خود بھی برباد ہوا مجھ کو بھی برباد کیا
شمع کی طرح جلے ہم تری محفل میں مگر
تو نے کس وقت ہمیں کون سی شب یاد کیا
جنبش لب کی اجازت ہے نہ اذن پرواز
کس لئے تو نے مجھے قید سے آزاد کیا
شکر ہے تو نے مجھے درد کے قابل سمجھا
تیری پیماں شکنی نے مرا دل شاد کیا
ہائے اس شخص کی خاطر شکنی ہوتی ہے
جس نے اپنے کو تری یاد میں برباد کیا
اپنی بربادی پہ نازاں بھی ہوں حیران بھی ہوں
شمعیں روشن ہوئیں جب میں نے تجھے یاد کیا
تجھ کو یہ ناز کہ تو خالق نغمہ ہے خیالؔ
مجھ کو یہ فخر کہ تو نے مجھے برباد کیا