Poetry
- ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میںمیں بیٹھتا ہی نہیں واہیات لوگوں میںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- اس قدر غور سے نہ سن فعلنبحر ٹوٹی ہوئی ہے چن فعلنEjaaz tawakkal (b. 1962)
- بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیںکچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیںسکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- زمانے کی ستائی خودکشی ہےمحبت ابتدائی خودکشی ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- عشق جو والہانہ ہوتا ہےخود کو ہی آزمانا ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہلفظ کو تم نے تراشا شکریہEjaaz tawakkal (b. 1962)
- کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہےیہ دو دلوں کے بیچ علاقائی جنگ ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہےعشق بارودی سرنگوں کی طرح ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- نیند کے دائرے میں حاضر ہوںخواب کے راستے میں حاضر ہوںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہےنئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- ہو کے باریک مل رہی ہے مجھےہر خبر ویک مل رہی ہے مجھےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیںہوا درختوں کی داشتہ نئیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤںوہ کہے کیسے ہو تم اور میں رونے لگ جاؤںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہےاس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- بنا رہا ہوں میں فہرست چھوٹے لوگوں کیملال یہ کہ بڑے نام اس میں آتے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)