Poetry
- اس لئے تیز بھاگتا ہوں میںاپنے پیچھے پڑا ہوا ہوں میںEhsanul Haq Mazhar
- تم سمجھتے ہو زمانے کے لئے آتا تھامیں تمہیں شعر سنانے کے لئے آتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- تم عبث ڈھونڈھتے پھرتے ہو کہاں رستہ تھاہم نے دیوار اٹھا دی ہے جہاں رستہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیںمیں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیںEhsanul Haq Mazhar
- خمار قرب میں اس بات کا خیال نہ تھاہمارے ذہن میں کچھ اور تھا وصال نہ تھاEhsanul Haq Mazhar
- زندگی اور گھر کا نقشہ ایک جیسا ہو رہا ہےکمرے بڑھتے جا رہے ہیں صحن چھوٹا ہو رہا ہےEhsanul Haq Mazhar
- گرد پڑنے پہ بھی سرشار ہوا کرتا تھاایک رستے سے مجھے پیار ہوا کرتا تھاEhsanul Haq Mazhar
- وہ پریشانی سر دشت عدم ہے ہم کوباغ رضوان بھی مل جائے تو کم ہے ہم کوEhsanul Haq Mazhar
- یہ جو لگتا ہے ضرورت سے بھی کم بولتے ہیںہم کو وہ شخص بلاتا ہے تو ہم بولتے ہیںEhsanul Haq Mazhar
- اس محبت سے مری سمت کوئی دیکھتا ہےرک بھی جاتا ہوں کبھی دشت کو جاتا ہوا میںEhsanul Haq Mazhar
- تم عادتاً کہو گے اسے یار معذرتلیکن یہ اعتراف کے زمرے میں آئے گاEhsanul Haq Mazhar
- راستے اور بھی جاتے ہیں ادھر کو لیکنوہ مرے دل سے گزرتا ہوا گھر جاتا ہےEhsanul Haq Mazhar
- زندگی اس کی امانت تھی وگرنہ مظہرؔہم اسے اپنے تصرف میں بھی لا سکتے تھےEhsanul Haq Mazhar
- فی زمانہ یہ مروت بھی بہت ہے مظہرؔان کو جانا تھا مگر دوست بہانے سے گئےEhsanul Haq Mazhar