Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تھی نئی کافر ادا کی شان ہنستے بولتےعاشقوں نے دے دیا ایمان ہنستے بولتےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  2. جذبۂ شوق بڑھاتا ہے جدا ہو جانااوپری دل سے ذرا مجھ سے خفا ہو جاناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  3. جہاں رنگ و بو ہے اور میں ہوںبہار آرزو ہے اور میں ہوںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  4. خاکساری سے یہاں تک مرتبہ اونچا ہوادیدۂ گردوں کی پتلی خاک آگ کا پتلا ہواChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  5. دل کشی نام کو بھی عالم امکاں میں نہیںاپنے مطلب کا کوئی پھول گلستاں میں نہیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  6. دور نگاہ ساقی مستانہ ایک ہےپیمانے دو ہیں گردش پیمانہ ایک ہےChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  7. دیتے ہیں میرے جام میں دیکھیں شراب کبآتا ہے ماہتاب کے گھر آفتاب کبChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  8. فتنۂ روزگار کی باتیںایسی ہیں جیسے یار کی باتیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  9. کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیراکہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیراChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  10. لے اڑا رنگ فلک جلوۂ رعنائی کاعکس ہے قوس قزح میں تری انگڑائی کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  11. مجھ کو خاک در مے خانہ بنایا ہوتاپھر اسی خاک سے پیمانہ بنایا ہوتاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  12. نہیں دیتے کبھی دنیا کو دل اہل نظر اپناکبھی مرغاب تر کرتا نہیں پانی سے پر اپناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  13. ہر آرزو میں رنگ ہے باغ و بہار کاکانٹا بھی ایک پھول ہے اس خار زار کاChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  14. ہندو مسلمانوں کا اتحادChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  15. ہندی ہندوستانیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  16. غالبؔChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  17. نئی دہلیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  18. نورجہاںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  19. شری کرشنChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
  20. اداؤں کا کچھ اس انداز سے پردہ اٹھا دینالجانا کسمسانا دیکھ لینا مسکرا دیناChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)