Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاستھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاسBaldev Raaj (b. 1924)
  2. اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہےایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  3. بدلا ہوا ہے رنگ گلستاں مرے لیےخوں رو رہی ہے چشم بہاراں مرے لیےBaldev Raaj (b. 1924)
  4. بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کرکہ گل مرجھا کے رہ جاتا ہے خاروں سے جدا ہو کرBaldev Raaj (b. 1924)
  5. حیات الفت کی چاندنی میں مسرتوں کی کمی نہیں ہےمگر مقدر کو کیا کروں میں نظر وہ پہلی جو تھی نہیں ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  6. خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہےجسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  7. خود کو خودی کا آئنہ دکھلا رہا ہوں میںاپنا حریف آپ بنا جا رہا ہوں میںBaldev Raaj (b. 1924)
  8. زندگی ہے عشق میری روح خودداری مریوائے مجبوری مری صد حیف مختاری مریBaldev Raaj (b. 1924)
  9. فکر و خیال میں تمہیں لانے سے فائدہخود اپنے گھر میں آگ لگانے سے فائدہBaldev Raaj (b. 1924)
  10. کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتایہ حد ہے تو بھی اب مد مقابل ہو نہیں سکتاBaldev Raaj (b. 1924)
  11. گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھدنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھBaldev Raaj (b. 1924)
  12. مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیںنہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیںBaldev Raaj (b. 1924)
  13. میرے ارمانوں کو پامال زیاں رہنے بھی دےشوق منزل کو شریک کارواں رہنے بھی دےBaldev Raaj (b. 1924)
  14. میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیریہ زہر پی رہا ہوں گوارا کئے بغیرBaldev Raaj (b. 1924)
  15. ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیداہر اک آئینے سے ہے صورت آئینہ گر پیداBaldev Raaj (b. 1924)
  16. تم ہو کہ مدتوں میں بھی میرے نہ ہو سکےمیں ہوں کہ ایک بات میں دیوانہ ہو گیاBaldev Raaj (b. 1924)