Poetry
- آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاستھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاسBaldev Raaj (b. 1924)
- اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہےایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہےBaldev Raaj (b. 1924)
- بدلا ہوا ہے رنگ گلستاں مرے لیےخوں رو رہی ہے چشم بہاراں مرے لیےBaldev Raaj (b. 1924)
- بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کرکہ گل مرجھا کے رہ جاتا ہے خاروں سے جدا ہو کرBaldev Raaj (b. 1924)
- حیات الفت کی چاندنی میں مسرتوں کی کمی نہیں ہےمگر مقدر کو کیا کروں میں نظر وہ پہلی جو تھی نہیں ہےBaldev Raaj (b. 1924)
- خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہےجسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہےBaldev Raaj (b. 1924)
- خود کو خودی کا آئنہ دکھلا رہا ہوں میںاپنا حریف آپ بنا جا رہا ہوں میںBaldev Raaj (b. 1924)
- زندگی ہے عشق میری روح خودداری مریوائے مجبوری مری صد حیف مختاری مریBaldev Raaj (b. 1924)
- فکر و خیال میں تمہیں لانے سے فائدہخود اپنے گھر میں آگ لگانے سے فائدہBaldev Raaj (b. 1924)
- کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتایہ حد ہے تو بھی اب مد مقابل ہو نہیں سکتاBaldev Raaj (b. 1924)
- گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھدنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھBaldev Raaj (b. 1924)
- مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیںنہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیںBaldev Raaj (b. 1924)
- میرے ارمانوں کو پامال زیاں رہنے بھی دےشوق منزل کو شریک کارواں رہنے بھی دےBaldev Raaj (b. 1924)
- میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیریہ زہر پی رہا ہوں گوارا کئے بغیرBaldev Raaj (b. 1924)
- ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیداہر اک آئینے سے ہے صورت آئینہ گر پیداBaldev Raaj (b. 1924)
- تم ہو کہ مدتوں میں بھی میرے نہ ہو سکےمیں ہوں کہ ایک بات میں دیوانہ ہو گیاBaldev Raaj (b. 1924)