Poetry
- آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہےکالی جادو جگا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگاہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ترے جلال سے خورشید کو زوال ہواترے جمال سے مہتاب کو کمال ہواAagha Akbarabadi (b. 1879)
- جا لڑی یار سے ہماری آنکھدیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھAagha Akbarabadi (b. 1879)
- جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہےنام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- چاہت غمزے جتا رہی ہےوحشت صحرا دکھا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسازخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیساAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دل میں ترے اے نگار کیا ہےہوتا نہیں ہمکنار کیا ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اورابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اورAagha Akbarabadi (b. 1879)
- سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیاپھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتاتنگ کرتی مفلسی گر میں فراغت مانگتاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤںنور کے سانچے میں ڈھالے ہیں تمہارے ہاتھ پاؤںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کامشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خطمیری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خطAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہےنمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کبجوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کبAagha Akbarabadi (b. 1879)
- نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوںخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوںاے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئیازاں ہو گئی توپ سر ہو گئیAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیںتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگابشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسممرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسمAagha Akbarabadi (b. 1879)
- شدت ذات نے یہ حال بنایا اپناجسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ان پری رویوں کی ایسی ہی اگر کثرت رہیتھوڑے عرصہ میں پرستاں آگرہ ہو جائے گاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائےاپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دےAagha Akbarabadi (b. 1879)
- بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگیآج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگیAagha Akbarabadi (b. 1879)
- تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نمازپر نشۂ شراب نے مجبور کر دیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- جی چاہتا ہے اس بت کافر کے عشق میںتسبیح توڑ ڈالیے زنار دیکھ کرAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دوشالہ شال کشمیری امیروں کو مبارک ہوگلیم کہنہ میں جاڑا فقیروں کا بسر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنامجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھےجی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہآئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجےاور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھےہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)