Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہےکالی جادو جگا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  2. پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگاہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  3. ترے جلال سے خورشید کو زوال ہواترے جمال سے مہتاب کو کمال ہواAagha Akbarabadi (b. 1879)
  4. جا لڑی یار سے ہماری آنکھدیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھAagha Akbarabadi (b. 1879)
  5. جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہےنام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  6. چاہت غمزے جتا رہی ہےوحشت صحرا دکھا رہی ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  7. خود مزے دار طبیعت ہے تو ساماں کیسازخم دل آپ ہیں شورش پہ نمکداں کیساAagha Akbarabadi (b. 1879)
  8. دل میں ترے اے نگار کیا ہےہوتا نہیں ہمکنار کیا ہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  9. دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اورابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اورAagha Akbarabadi (b. 1879)
  10. سرو قد لالہ رخ و غنچہ دہن یاد آیاپھر بہار آئی مجھے لطف چمن یاد آیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  11. سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتاتنگ کرتی مفلسی گر میں فراغت مانگتاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  12. کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤںنور کے سانچے میں ڈھالے ہیں تمہارے ہاتھ پاؤںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  13. مداح ہوں میں دل سے محمد کی آل کامشتاق ہوں وصیٔ نبی کے جمال کاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  14. مدت کے بعد اس نے لکھا میرے نام خطمیری شکایتوں سے بھرا ہے تمام خطAagha Akbarabadi (b. 1879)
  15. مزا ہے امتحاں کا آزما لے جس کا جی چاہےنمک زخم جگر پر اور ڈالے جس کا جی چاہےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  16. ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کبجوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کبAagha Akbarabadi (b. 1879)
  17. نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  18. نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوںخدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  19. نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوںاے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  20. وہ کہتے ہیں اٹھو سحر ہو گئیازاں ہو گئی توپ سر ہو گئیAagha Akbarabadi (b. 1879)
  21. ہزار جان سے صاحب نثار ہم بھی ہیںتمہاری تیر نگہ کے شکار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  22. ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگابشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  23. بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسممرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسمAagha Akbarabadi (b. 1879)
  24. شدت ذات نے یہ حال بنایا اپناجسم مجنوں میں ہوا تنگ شلوکا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
  25. ان پری رویوں کی ایسی ہی اگر کثرت رہیتھوڑے عرصہ میں پرستاں آگرہ ہو جائے گاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  26. او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائےاپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دےAagha Akbarabadi (b. 1879)
  27. بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگیآج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگیAagha Akbarabadi (b. 1879)
  28. تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نمازپر نشۂ شراب نے مجبور کر دیاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  29. جی چاہتا ہے اس بت کافر کے عشق میںتسبیح توڑ ڈالیے زنار دیکھ کرAagha Akbarabadi (b. 1879)
  30. دوشالہ شال کشمیری امیروں کو مبارک ہوگلیم کہنہ میں جاڑا فقیروں کا بسر ہوگاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  31. دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنامجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  32. زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھےجی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  33. صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  34. طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  35. کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
  36. مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہآئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  37. ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجےاور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
  38. ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھےہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)