Poetry
Poet
Meter
- مرے جہاں میں زمان و مکان و لیل و نہارترے جہاں میں ازل ہے ابد نہ آج نہ کلAhmad Faraz (1931–2008)
- مرے لہو میں ہے برق تپاں کا جذب و گریزترے سبو میں مئے زندگی نہ زہر اجلAhmad Faraz (1931–2008)
- مرے لیے تو ہے سو بخششوں کی اک بخششقلم جو افسر و طبل و علم سے ہے افضلAhmad Faraz (1931–2008)
- میں آپ اپنا ہی ہابیل اپنا ہی قابیلمری ہی ذات ہے مقتول و قاتل و مقتلAhmad Faraz (1931–2008)
- میں پا بہ گل ہوں مگر چھو چکا منارۂ عرشسو تو بھی دیکھ یہ خاک و خشارہ و جنگلAhmad Faraz (1931–2008)
- وہ پرفشاں ہیں مگر غول شپرک کی طرحسو رائیگاں ہیں کہ جوں چشم کور میں کاجلAhmad Faraz (1931–2008)
- وہ تو کہ عقدہ کشا و مسبب الاسبابیہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حلAhmad Faraz (1931–2008)
- وہ سیر چشم ہوں میرے لیے ہے بے وقعتجمال حور و شراب طہور و شیر و عسلAhmad Faraz (1931–2008)
- ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلومکہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھیAhmad Faraz (1931–2008)
- ہیں ثبت سینۂ مہتاب پر قدم میرےہیں منتظر مرے مریخ و مشتری و زحلAhmad Faraz (1931–2008)
- ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ واقعہ ہے کہ شاعر وہ دیکھ سکتا ہےرہے جو تیرے فرشتوں کی آنکھ سے اوجھلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہےدلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ اعجاز حرف سے جس کےتمام عشوہ طرازان شہر ہیں پاگلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس کی ستارہ سازی سےدلوں میں جوت جگاتی ہے عشق کی مشعلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس کی سریر کے آگےہیں سرمہ در گلو خونخوار لشکروں کے بگلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس کی عطا سے مجھ کو ملےیہ چاہتوں کے شگوفے محبتوں کے کنولAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس کے ہنر سے نکلے ہیںرہ حیات کے خم ہوں کہ زلف یار کے بلAhmad Faraz (1931–2008)
- یہی قلم ہے کہ جس نے مجھے یہ درس دیاکہ سنگ و خشت کی زد پر رہیں گے شیش محلAhmad Faraz (1931–2008)
- آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم توJaun Elia (1931–2002)
- آج بھی تشنگی کی قسمت میںسم قاتل ہے سلسبیل نہیںJaun Elia (1931–2002)
- آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیاتذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیاJaun Elia (1931–2002)
- آخری بار آہ کر لی ہےمیں نے خود سے نباہ کر لی ہےJaun Elia (1931–2002)
- آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاJaun Elia (1931–2002)
- اب کسی سے مرا حساب نہیںمیری آنکھوں میں کوئی خواب نہیںJaun Elia (1931–2002)
- اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھاسب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھاJaun Elia (1931–2002)
- ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیںکوئی خاموش ہو گیا ہے کہیںJaun Elia (1931–2002)
- ابھی فرمان آیا ہے وہاں سےکہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سےJaun Elia (1931–2002)
- اپنا خاکہ لگتا ہوںایک تماشا لگتا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- اپنی منزل کا راستہ بھیجوجان ہم کو وہاں بلا بھیجوJaun Elia (1931–2002)
- اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- اس نے ہم کو گمان میں رکھااور پھر کم ہی دھیان میں رکھاJaun Elia (1931–2002)
- اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کامقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کاJaun Elia (1931–2002)
- اک سایہ مرا مسیحا تھاکون جانے وہ کون تھا کیا تھاJaun Elia (1931–2002)
- اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںسب کے دل سے اتر گیا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- انقلاب ایک خواب ہے سو ہےدل کی دنیا خراب ہے سو ہےJaun Elia (1931–2002)
- ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےکس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہےJaun Elia (1931–2002)
- ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہےJaun Elia (1931–2002)
- اے صبح میں اب کہاں رہا ہوںخوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوںJaun Elia (1931–2002)
- اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئےJaun Elia (1931–2002)
- اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوااس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہواJaun Elia (1931–2002)
- بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئیسو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئیJaun Elia (1931–2002)
- باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گےہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گےJaun Elia (1931–2002)
- بجا ارشاد فرمایا گیا ہےکہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیاپا پیادہ ہو کے کوئی شہسوار آیا تو کیاJaun Elia (1931–2002)
- بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
- بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہےJaun Elia (1931–2002)
- بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میںمیں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میںJaun Elia (1931–2002)