Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مرے جہاں میں زمان و مکان و لیل و نہارترے جہاں میں ازل ہے ابد نہ آج نہ کلAhmad Faraz (1931–2008)
  2. مرے لہو میں ہے برق تپاں کا جذب و گریزترے سبو میں مئے زندگی نہ زہر اجلAhmad Faraz (1931–2008)
  3. مرے لیے تو ہے سو بخششوں کی اک بخششقلم جو افسر و طبل و علم سے ہے افضلAhmad Faraz (1931–2008)
  4. میں آپ اپنا ہی ہابیل اپنا ہی قابیلمری ہی ذات ہے مقتول و قاتل و مقتلAhmad Faraz (1931–2008)
  5. میں پا بہ گل ہوں مگر چھو چکا منارۂ عرشسو تو بھی دیکھ یہ خاک و خشارہ و جنگلAhmad Faraz (1931–2008)
  6. وہ پرفشاں ہیں مگر غول شپرک کی طرحسو رائیگاں ہیں کہ جوں چشم کور میں کاجلAhmad Faraz (1931–2008)
  7. وہ تو کہ عقدہ کشا و مسبب الاسبابیہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حلAhmad Faraz (1931–2008)
  8. وہ سیر چشم ہوں میرے لیے ہے بے وقعتجمال حور و شراب طہور و شیر و عسلAhmad Faraz (1931–2008)
  9. ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلومکہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھیAhmad Faraz (1931–2008)
  10. ہیں ثبت سینۂ مہتاب پر قدم میرےہیں منتظر مرے مریخ و مشتری و زحلAhmad Faraz (1931–2008)
  11. ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چلAhmad Faraz (1931–2008)
  12. یہ واقعہ ہے کہ شاعر وہ دیکھ سکتا ہےرہے جو تیرے فرشتوں کی آنکھ سے اوجھلAhmad Faraz (1931–2008)
  13. یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہےدلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندلAhmad Faraz (1931–2008)
  14. یہی قلم ہے کہ اعجاز حرف سے جس کےتمام عشوہ طرازان شہر ہیں پاگلAhmad Faraz (1931–2008)
  15. یہی قلم ہے کہ جس کی ستارہ سازی سےدلوں میں جوت جگاتی ہے عشق کی مشعلAhmad Faraz (1931–2008)
  16. یہی قلم ہے کہ جس کی سریر کے آگےہیں سرمہ در گلو خونخوار لشکروں کے بگلAhmad Faraz (1931–2008)
  17. یہی قلم ہے کہ جس کی عطا سے مجھ کو ملےیہ چاہتوں کے شگوفے محبتوں کے کنولAhmad Faraz (1931–2008)
  18. یہی قلم ہے کہ جس کے ہنر سے نکلے ہیںرہ حیات کے خم ہوں کہ زلف یار کے بلAhmad Faraz (1931–2008)
  19. یہی قلم ہے کہ جس نے مجھے یہ درس دیاکہ سنگ و خشت کی زد پر رہیں گے شیش محلAhmad Faraz (1931–2008)
  20. آپ اپنا غبار تھے ہم تویاد تھے یادگار تھے ہم توJaun Elia (1931–2002)
  21. آج بھی تشنگی کی قسمت میںسم قاتل ہے سلسبیل نہیںJaun Elia (1931–2002)
  22. آج لب گہر فشاں آپ نے وا نہیں کیاتذکرۂ خجستۂ آب و ہوا نہیں کیاJaun Elia (1931–2002)
  23. آخری بار آہ کر لی ہےمیں نے خود سے نباہ کر لی ہےJaun Elia (1931–2002)
  24. آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاJaun Elia (1931–2002)
  25. اب کسی سے مرا حساب نہیںمیری آنکھوں میں کوئی خواب نہیںJaun Elia (1931–2002)
  26. اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھاسب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھاJaun Elia (1931–2002)
  27. ابھی اک شور سا اٹھا ہے کہیںکوئی خاموش ہو گیا ہے کہیںJaun Elia (1931–2002)
  28. ابھی فرمان آیا ہے وہاں سےکہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سےJaun Elia (1931–2002)
  29. اپنا خاکہ لگتا ہوںایک تماشا لگتا ہوںJaun Elia (1931–2002)
  30. اپنی منزل کا راستہ بھیجوجان ہم کو وہاں بلا بھیجوJaun Elia (1931–2002)
  31. اپنے سب یار کام کر رہے ہیںاور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  32. اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیںہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  33. اس نے ہم کو گمان میں رکھااور پھر کم ہی دھیان میں رکھاJaun Elia (1931–2002)
  34. اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کامقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کاJaun Elia (1931–2002)
  35. اک سایہ مرا مسیحا تھاکون جانے وہ کون تھا کیا تھاJaun Elia (1931–2002)
  36. اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میںسب کے دل سے اتر گیا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  37. انقلاب ایک خواب ہے سو ہےدل کی دنیا خراب ہے سو ہےJaun Elia (1931–2002)
  38. ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  39. ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےکس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہےJaun Elia (1931–2002)
  40. ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہےدھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہےJaun Elia (1931–2002)
  41. اے صبح میں اب کہاں رہا ہوںخوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوںJaun Elia (1931–2002)
  42. اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئےJaun Elia (1931–2002)
  43. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوااس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہواJaun Elia (1931–2002)
  44. بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئیسو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئیJaun Elia (1931–2002)
  45. باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گےہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گےJaun Elia (1931–2002)
  46. بجا ارشاد فرمایا گیا ہےکہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہےJaun Elia (1931–2002)
  47. بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیاپا پیادہ ہو کے کوئی شہسوار آیا تو کیاJaun Elia (1931–2002)
  48. بڑا احسان ہم فرما رہے ہیںکہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیںJaun Elia (1931–2002)
  49. بزم سے جب نگار اٹھتا ہےمیرے دل سے غبار اٹھتا ہےJaun Elia (1931–2002)
  50. بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میںمیں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میںJaun Elia (1931–2002)