Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Maqbuz Makfuf Majbub
ہزج مثمّن اخرب مقبوض مکفوف مجبوب- پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیباہو رنگ پہ جس کے سرخیٔ لعل فداNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیںعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشکاللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشکMir Anees (1803–1874)
- اپنے آقا کی ہر گھڑی یاد میں ہوںہر وقت منیرؔ آہ و فریاد میں ہوںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جو جا کے نہ آئے پھر جوانی ہے یہ شےپر حیف نصیب رائیگانی ہے یہ شےQalaq Meerathi (1835–1880)
- اے عیش و طرب تو نے جہاں راج کیاسلطاں کو گدا غنی کو محتاج کیاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- نعتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- دراصل کہاں ہے اختلاف احوالکچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملالIsmail Meeruthi (1844–1917)
- معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثرگنجائش علم ہے بیاں ہے نہ خبرIsmail Meeruthi (1844–1917)
- بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزےہیں رنج کے دم قدم سے راحت کے مزےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سواسانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شورایسوں کو کہے گا کون میدان کا چورYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سجادہ ہے میرا فلک نیلی فامتسبیح کواکب آفتاب اس کا امامسید یوسف علی خاں ناظم
- صورت وہ بھلی کہ ہو مگر ماہ تمامسیرت وہ بری کہ ہو مگر والیٔ شامسید یوسف علی خاں ناظم
- ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میللے جائے بہا کے گرچہ تعلیم کا سیلسید محمد عبد الغفور شہباز