معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر
Ismail Meeruthi (1844–1917)معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر
گنجائش علم ہے بیاں ہے نہ خبر
علم اور معلوم میں دوئی کی بو ہے
اس واسطے علم ہے حجاب الاکبر
معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر
گنجائش علم ہے بیاں ہے نہ خبر
علم اور معلوم میں دوئی کی بو ہے
اس واسطے علم ہے حجاب الاکبر