Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Munsarih Musamman Matwi Maksuf

منسرح مثمن مطوی مکسوف
Poet
Meter
Clear
  1. جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھیپھر جہاں کٹ گئے چار گھڑی اور بھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  2. کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاجہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آجNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  3. کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلبدل تو کرے ہے مدام دامن صحرا طلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنئے ٹک اس کا بیاںتھا وُہ معلم غریب بزدل و ترسندہ جاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھناشام ہوئی اب چلو صبح پھر آ بیٹھناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  6. مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہودودھ چھٹی کا اسے یاد دلانے چلوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  7. دیکھ تری خوئے گرم دل بہ تپش رام ہےطائرِ سیماب کو شعلہ رگِ دام ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  8. ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دواموائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!Allama Iqbal (1877–1938)
  9. فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہفقر ہے میروں کا مِیر، فقر ہے شاہوں کا شاہAllama Iqbal (1877–1938)
  10. دعا (مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)Allama Iqbal (1877–1938)
  11. مسجد قرطبہAllama Iqbal (1877–1938)
  12. علم و عشقAllama Iqbal (1877–1938)
  13. تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرورمیری متاعِ حیات ایک دلِ ناصبور!Allama Iqbal (1877–1938)
  14. اہل ہنر سےAllama Iqbal (1877–1938)
  15. میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاںتیری چٹانوں میں ہے میرے اَب و جدَ کی خاکAllama Iqbal (1877–1938)
  16. موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے ناممکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام!Allama Iqbal (1877–1938)
  17. عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیورڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوامAllama Iqbal (1877–1938)
  18. جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
  19. تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیںاے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیںمرزا محمد تقی ہوس