Poetry
Munsarih Musamman Matwi Maksuf
منسرح مثمن مطوی مکسوف- جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھیپھر جہاں کٹ گئے چار گھڑی اور بھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاجہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آجNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلبدل تو کرے ہے مدام دامن صحرا طلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنئے ٹک اس کا بیاںتھا وُہ معلم غریب بزدل و ترسندہ جاںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھناشام ہوئی اب چلو صبح پھر آ بیٹھناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہودودھ چھٹی کا اسے یاد دلانے چلوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیکھ تری خوئے گرم دل بہ تپش رام ہےطائرِ سیماب کو شعلہ رگِ دام ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دواموائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!Allama Iqbal (1877–1938)
- فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہفقر ہے میروں کا مِیر، فقر ہے شاہوں کا شاہAllama Iqbal (1877–1938)
- دعا (مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)Allama Iqbal (1877–1938)
- مسجد قرطبہAllama Iqbal (1877–1938)
- علم و عشقAllama Iqbal (1877–1938)
- تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرورمیری متاعِ حیات ایک دلِ ناصبور!Allama Iqbal (1877–1938)
- اہل ہنر سےAllama Iqbal (1877–1938)
- میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاںتیری چٹانوں میں ہے میرے اَب و جدَ کی خاکAllama Iqbal (1877–1938)
- موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے ناممکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام!Allama Iqbal (1877–1938)
- عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیورڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوامAllama Iqbal (1877–1938)
- جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھناکہتا ہے خط آئے پر ٹک تو ادھر دیکھناحسرت عظیم آبادی
- تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیںاے دل خانہ خراب تجھ کو بھی ہے کل کہیںمرزا محمد تقی ہوس