Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھاآئے یہاں تو حوصلۂ آشیاں نہ تھاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  2. کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھاکچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھاLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  3. کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئینکلی جو بات منہ سے تو پھیلی جہان میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  4. گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہووہ بے حجابیاں ہوں کہ نرگس بھی دنگ ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  5. ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کےپہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  6. اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروںدشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  7. تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاںیہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  8. دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہےاک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  9. دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیںبستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  10. سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گےاللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  11. منہ پر نقاب زرد ہر اک زلف پر گلالہولی کی شام ہی تو سحر ہے بسنت کیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  12. واقف نہیں کہ پاؤں میں پڑتی ہیں بیڑیاںدولہے کو یہ خوشی ہے کہ میری برات ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  13. وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیںحیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  14. اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھاجب تک موئے بلوں سے نکلنا محال تھاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  15. بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرےرو رو کے آنکھ بھرتی ہے پیمانہ کیا کرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  16. ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئےارمان آج دل کے ہمارے نکل گئےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  17. جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیاشیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  18. آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئےمشکل میں ہاتھ پاؤں ہمارے نکل گئےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  19. آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطےدو کشتیاں ملی ہیں ڈبونے کے واسطےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  20. ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئیجتنی کسائی سیف یہ کستی چلی گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
  21. پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کےکس سے ملا ہے شیشۂ دل ہم سے پھوٹ کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  22. ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئیزخم جگر کی راہ سے حسرت نکل گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
  23. دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئیکعبہ کو ڈھ گئی یہ بلا کام کر گئیHatim Ali Mehr (1815–1879)
  24. کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہمجاتے ہیں کوئے یار میں پہلے صبا سے ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  25. ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہماے بحر حسن آ ادھر آ آشنا ہیں ہمHatim Ali Mehr (1815–1879)
  26. دیتا ہے روز روز دلاسے نئے نئےکس طرح اعتبار ہو حافظؔ کے فال پرMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  27. پیک خیال بھی ہے عجب کیا جہاں نماآیا نظر وہ پاس جو اپنے سے دور تھاGeorge Puech Shor (1823–1894)
  28. غمگیں نہیں ہوں دہر میں تو شاد بھی نہیںآباد اگر نہیں ہوں تو برباد بھی نہیںBahram ji (1828–1895)
  29. اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہودل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہوAmeer Minai (1829–1900)
  30. پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیابیکار ہے جو دانت دہن سے نکل گیاAmeer Minai (1829–1900)
  31. تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولبر آئیں میرے دل کے بھی ارمان یا رسولAmeer Minai (1829–1900)
  32. شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوںاک جان ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوںAmeer Minai (1829–1900)
  33. کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیںگردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیںAmeer Minai (1829–1900)
  34. یارب شب وصال یہ کیسا گجر بجااگلے پہر کے ساتھ ہی پچھلا پہر بجاAmeer Minai (1829–1900)
  35. آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گاپھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گاAmeer Minai (1829–1900)
  36. آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیحسو بار میں فریب سے بیمار ہو چکاAmeer Minai (1829–1900)
  37. اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبرمیت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہواAmeer Minai (1829–1900)
  38. باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہےچودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہےAmeer Minai (1829–1900)
  39. پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیاپھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کاAmeer Minai (1829–1900)
  40. خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےAmeer Minai (1829–1900)
  41. شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔسو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میںAmeer Minai (1829–1900)
  42. مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمرآج آپ ایک بات مری مان جائیےAmeer Minai (1829–1900)
  43. مشکل بہت پڑے گی برابر کی چوٹ ہےآئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کےAmeer Minai (1829–1900)
  44. ہم نے دکھا دکھا تری تصویر جا بہ جاہر اک کو اپنی جان کا دشمن بنا لیاCaptain Alexander Hederly Azad (1829–1861)
  45. اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئیاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  46. اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کربیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کرJoshish Azimabadi (d. 1830)
  47. تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشمجتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  48. کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئےیہ دل تو ہے وہی اسے پہچان لیجئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  49. ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایکدیکھا تو بزم عشق میں ہے یہ چراغ ایکJoshish Azimabadi (d. 1830)
  50. اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھسر رشتۂ نگاہ کو اپنے نگاہ رکھJoshish Azimabadi (d. 1830)