Poetry
Saree' Musaddas Matwi Maksuf
سریع مسدس مطوی مکسوف- راست اگر سرو سی قامت کرےیار کی آنکھوں میں قیامت کرےFaez Dehlvi (1690–1738)
- دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیاسخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ترک وفا گرچہ صداقت نہیںپر یہ ستم سہنے کی طاقت نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیادیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- عشق میں نے خوف و خطر چاہیےجان کے دینے کو جگر چاہیےMir Taqi Mir (1723–1810)
- یار عجب طرح نگہ کر گیادیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیاMir Taqi Mir (1723–1810)
- کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کاحسن مرقع ہے طلسمات کاQalandar Bakhsh Jurat (1748–1810)
- اب وہ گلی جائے خطر ہو گئیحال سے لوگوں کو خبر ہو گئیNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیاخوب کیا آپ نے اچھا کیاNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دیدۂ حیراں نے تماشا کیادیر تلک وہ مجھے دیکھا کیاMomin Khan Momin (1800–1852)
- یار کو محرومِ تماشا کیامرگِ مفاجات نے یہ کیا کیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
- غیر توکل نہیں چارا مجھےاپنے ہی دم کا ہے سہارا مجھےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہاتھ دیا اس نے مرے ہاتھ میںمیں تو ولی بن گیا اک رات میںQateel Shifai (1919–2001)
- نالہ جدھر میرا گزر کر گیاتیر سا ہر دل میں اثر کر گیامرزا جواں بخت جہاں دار
- میرے تڑپنے نے تماشا کیاوہ نگہ شوق سے دیکھا کیانسیم بھرتپوری
- آبرو الفت میں اگر چاہئےرکھنی سدا چشم کو تر چاہئےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی