Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بتوں کو بھول جاتے ہیں خدا کو یاد کرتے ہیںبرہمن جب سفر سوئے الہ آباد کرتے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  2. تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہوپھر اس کے بعد یا رب سر کٹے نالے میں مدفن ہوZarif Lakhnavi (1870–1937)
  3. تیرے رہنے کو مناسب تھا کہ چھپر ہوتاکہ نہ چوکھٹ تری ہوتی نہ مرا سر ہوتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  4. جب دوبارہ کسی عاشق کا جنم ہوتا ہےاک وفادار سگ کوئے صنم ہوتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  5. علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیںچاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  6. قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھےمار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  7. مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتاپیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  8. محشرستان جنوں میں دل ناکام آیانالہ ہنگامہ نوازی پہ سر شام آیاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  9. وہ ہو کیسا ہی دبلا تار بستر ہو نہیں سکتاغلط ہے آدمی اس طرح لاغر ہو نہیں سکتاZarif Lakhnavi (1870–1937)
  10. شعر آشوبZarif Lakhnavi (1870–1937)
  11. جب کہا میں نے اس سے الفت ہےہنس کے کہنے لگا اگر نہ ہوئیZarif Lakhnavi (1870–1937)
  12. غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسےہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسےZarif Lakhnavi (1870–1937)
  13. سیاحت ظریفZarif Lakhnavi (1870–1937)
  14. کریں گے سب یہ دعویٰ نقد دل جو ہار بیٹھے ہیںخفیفہ میں تمہارے عاشق نادار بیٹھے ہیںZarif Lakhnavi (1870–1937)
  15. سیاسی بینگنZarif Lakhnavi (1870–1937)
  16. شامت الیکشنZarif Lakhnavi (1870–1937)
  17. وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہےZarif Lakhnavi (1870–1937)