Poetry
- بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئےمرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھےلہو لہو وہیں منظر انا کے رکھے تھےZafar Moradabadi (b. 1951)
- حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشنمیں جو ڈوبا تو ہوا ساحل دریا روشنZafar Moradabadi (b. 1951)
- خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوازندگی تجھ سے تعلق کھوکھلا ثابت ہواZafar Moradabadi (b. 1951)
- رات بھر سورج کے بن کر ہم سفر واپس ہوئےشام بچھڑے ہم تو ہنگام سحر واپس ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- کبھی دعا تو کبھی بد دعا سے لڑتے ہوئےتمام عمر گزاری ہوا سے لڑتے ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)
- نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیاکہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیاZafar Moradabadi (b. 1951)
- نگاہ حسن مجسم ادا کو چھوتے ہیگنوائے ہوش بھی اس دل ربا کو چھوتے ہیZafar Moradabadi (b. 1951)
- ہر انتخاب یہاں ماضی و عقب کا ہےسوال میرا نہیں ہے مرے نسب کا ہےZafar Moradabadi (b. 1951)
- کیا خبر کس موڑ پر بکھرے متاع احتیاطپتھروں کے شہر میں ہوں آئینہ اوڑھے ہوئےZafar Moradabadi (b. 1951)