Poetry
- اپنے زخموں کو دھو رہا ہے کوئیخون ہی خون ہو رہا ہے کوئیZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- پاس رہ کر بھی بہت دور ہیں ہم بھی تم بھیکس قدر بے بس و مجبور ہیں ہم بھی تم بھیZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- جب تلک در پیش کوئی حادثہ ہوتا نہیںزندگی کیا ہے ہمیں اس کا پتہ ہوتا نہیںZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- چڑھا ہوا ہے جو سورج وہ ڈھل بھی سکتا ہےہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگعجب ہے اس کی نگاہوں میں انتظار کا رنگZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- زندگی کو اک کہانی دے گیاہم سفر اپنی نشانی دے گیاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کلکس قدر زہریلا انساں ہو رہا ہے آج کلZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- سمٹا سا اک قطرہ ہوںپھیل گیا تو دریا ہوںZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- غم سے گر آشنا نہیں ہوتاآدمی کام کا نہیں ہوتاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- کہتا ہے دیوانہ کیاسچ کیا ہے افسانہ کیاZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہےیہ دکھ خزاں میں کہاں تھا جو اب بہار میں ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- نام جس شے کا زندگانی ہےکچھ حقیقت ہے کچھ کہانی ہےZafar Mahmood zafar (b. 1964)